سنن النسائي حدیث نمبر: 4082
Sunan an-Nasa'i 4082
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
17: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ أَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ , فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، مَا قُلْتَ: وَنَسِيتُ الَّذِي، قُلْتُ: قُلْتُ: ذَكِّرْنِيهِ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ؟!، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى رَجُلٍ؟، فَقُلْتَ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا تَذْكُرُ ذَلِكَ أَوَ كُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ، قُلْتُ: نَعَمْ , وَاللَّهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ. قَالَ: " وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ الْأَحَادِيثِ وَأَجْوَدُهَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہو گیا ، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول ! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کر دی ، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا : ابوبرزہ ! تم نے کیا کہا ؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا ، میں نے کہا : مجھے یاد دلائیے ، تو آپ نے کہا : کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! تو آپ نے کہا : جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا : اے خلیفہ رسول ! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے ؟ کیا تم ایسا کر گزرتے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کی قسم ! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں ، تو آپ نے کہا : اللہ کی قسم ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4082]
💡 وضاحت:
۱؎: سند کے لحاظ سے بہتر اور عمدہ ہونا ہے، کیونکہ پچھلی دونوں سن دوں میں انقطاع ہے جیسا کہ گزرا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)