سنن النسائي حدیث نمبر: 4078
Sunan an-Nasa'i 4078
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
17: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے ، میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں ؟ کہا : آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ ابوبرزہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا ، پھر بولے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4078]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)