سنن النسائي حدیث نمبر: 4080
Sunan an-Nasa'i 4080
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
17: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: غَضِبَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرْتَنِي لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. فَكَأَنَّمَا صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ بَارِدٌ , فَذَهَبَ غَضَبُهُ عَنِ الرَّجُلِ، قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا بَرْزَةَ، " وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ أَبُو نَصْرٍ وَاسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ. خَالَفَهُ شُعْبَةُ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان کا رنگ بدل گیا ، میں نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! اللہ کی قسم ! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں ، اچانک دیکھا گویا آپ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو ، چنانچہ اس شخص پر آپ کا غصہ ختم ہو گیا اور کہا : ابوبرزہ ! تمہاری ماں تم پر روئے ، یہ مقام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا ہے ہی نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ ( ابونضرۃ ) غلط ہے صحیح ابونصر ہے ، ان کا نام حمید بن ہلال ہے ۔ شعبہ نے مخالفت کرتے ہوئے اس ( ابونضرۃ ) کے برعکس ( ابونصر ) کہا ہے ۔ ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4080]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح) (نمبر 4082 میں آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس میں انقطاع ہے)