سنن النسائي حدیث نمبر: 4018
Sunan an-Nasa'i 4018
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
4: بَابُ : ذِكْرِ أَعْظَمِ الذَّنْبِ وَاخْتِلاَفِ يَحْيَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهِ
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ( ہم پلہ ) ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے “ ، میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا کہ ” تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4018]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة 3 (4477)، تفسیرالفرقان 2 (4761)، الأدب20(6001)، الحدود 20 (6811)، الدیات 1 (6861)، التوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الإیمان 37 (86)، سنن ابی داود/الطلاق 50 (2310)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، مسند احمد (1/434) (صحیح)