سنن النسائي حدیث نمبر: 4019
Sunan an-Nasa'i 4019
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
4: بَابُ : ذِكْرِ أَعْظَمِ الذَّنْبِ وَاخْتِلاَفِ يَحْيَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهِ
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا “ ۔ میں نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4019]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 2 (4761)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3183)، (تحفة الأشراف: 9311)، مسند احمد (1/434، 462، 464) (صحیح)