سنن النسائي حدیث نمبر: 4003
Sunan an-Nasa'i 4003
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
2: بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: قَالَ جُنْدَبٌ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ". قَالَ جُنْدَبٌ: فَاتَّقِهَا.
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں ( صحابی ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور کہے گا : ( اے اللہ ! ) اس سے پوچھ ، اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا ؟ تو وہ کہے گا : میں نے اس کو فلاں کی سلطنت میں قتل کیا “ ۔ جندب کہتے رضی اللہ عنہ ہیں : تو اس سے بچو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4003]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس طرح کے عذر لنگ والے جواب کی نوبت آنے سے بچو، یعنی تم کو اللہ کے پاس اس طرح کے جواب دینے کی نوبت نہ آئے، یہ خیال رکھو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15541-ألف)، مسند احمد (5/367، 373) (صحیح الإسناد)