سنن النسائي حدیث نمبر: 4005
Sunan an-Nasa'i 4005
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
2: بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ , ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کے سلسلے میں اہل کوفہ میں اختلاف ہوا تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا : تو انہوں نے کہا : وہ سب سے اخیر میں نازل ہونے والی آیتوں میں اتری اور اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4005]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء 16(4590)، تفسیرسورة الفرقان 2 (4763)، صحیح مسلم/التفسیر 16 (3023)، سنن ابی داود/الفتن 6 (4275)، (تحفة الأشراف: 5621)، ویأتی برقم: 4868 (صحیح)