سنن النسائي حدیث نمبر: 4002
Sunan an-Nasa'i 4002
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
2: بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ. فَيَقُولُ: فَإِنَّهَا لِي، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ: إِنَّ هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ. فَيَقُولُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِفُلَانٍ. فَيَبُوءُ بِإِثْمِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے ، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : تاکہ عزت و غلبہ فلاں کا ہو ، اللہ فرمائے گا : وہ تو اس کے لیے نہیں ہے ۔ پھر وہ ( قاتل ) اس کا ( جس کے لیے قتل کیا اس کا ) گناہ سمیٹ لے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4002]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ «ولا تزر وازرة وزر أخرء» کے منافی اور خلاف نہیں ہے، اس لیے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی دوسرے کا گناہ ایسے شخص پر نہیں لادا جا سکتا جس کا اس گناہ سے نہ تو ذاتی تعلق ہے اور نہ ہی اس کے کسی ذاتی فعل کا اثر ہے، اور یہاں جس قتل ناحق کا تذکرہ ہے اس میں اس شخص کا تعلق اور اثر موجود ہے جس کی عزت و تکریم یا حکومت کی خاطر قاتل نے اس قتل کو انجام دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9482) (صحیح)