سنن النسائي حدیث نمبر: 3965
Sunan an-Nasa'i 3965
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ خَيْرَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ يُؤَاجِرَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے ، چاندی کے بدلے کرائے پردے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3965]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5549) (صحیح الإسناد)