سنن النسائي حدیث نمبر: 3960
Sunan an-Nasa'i 3960
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ , يَقُولُ: " الْأَرْضُ عِنْدِي مِثْلُ مَالِ الْمُضَارَبَةِ فَمَا صَلُحَ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ صَلُحَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا لَمْ يَصْلُحْ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ لَمْ يَصْلُحْ فِي الْأَرْضِ"، قَالَ: وَكَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ أَرْضَهُ إِلَى الْأَكَّارِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهَا بِنَفْسِهِ , وَوَلَدِهِ , وَأَعْوَانِهِ , وَبَقَرِهِ , وَلَا يُنْفِقَ شَيْئًا، وَتَكُونَ النَّفَقَةُ كُلُّهَا مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ.
ابن عون کہتے ہیں کہ محمد ( محمد بن سیرین ) کہا کرتے تھے : میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے ، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے ، وہ زمین میں بھی درست ہے ، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں ، وہ زمین میں بھی درست نہیں ، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کر دیں اس شرط پر کہ وہ ( کاشتکار ) خود اپنے آپ ، اس کے لڑکے ، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3960]
💡 وضاحت:
۱؎: بٹائی کی یہ ایک جائز صورت ہے، واجب نہیں بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ زمین کا مالک کچھ بھی خرچ نہ کرے، تمام اخراجات کاشتکار کرے اور آدھی پیداوار کا حقدار ہو جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19308) (صحیح الإسناد)