سنن النسائي حدیث نمبر: 3963
Sunan an-Nasa'i 3963
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " كَانَتِ الْمَزَارِعُ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى أَنَّ لِرَبِّ الْأَرْضِ مَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , وَطَائِفَةً مِنَ التِّبْنِ , لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3963]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح الإسناد)