سنن النسائي حدیث نمبر: 3824
Sunan an-Nasa'i 3824
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
18: بَابُ : مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى
باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى , فَإِنْ شَاءَ مَضَى , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے ، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3824]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہو گا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہو گئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان 11 (3261، 3262)، سنن الترمذی/الأیمان 7 (1531)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2105)، (تحفة الأشراف: 7517)، مسند احمد (2/6، 10، 48، 49، 126، 127، 153، سنن الدارمی/النذور والأیمان 7 (2387، 2388)، ویأتي عند المؤلف فی باب 39 بأرقام: 3860، 3861 (صحیح)