سنن النسائي حدیث نمبر: 3823
Sunan an-Nasa'i 3823
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
18: بَابُ : مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى
باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس چیز میں کوئی نذر ، اور کوئی قسم نہیں ہوتی ، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3823]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہو جاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان 15 (3274مطولا)، مسند احمد (2/112) (حسن صحیح)