سنن النسائي حدیث نمبر: 3819
Sunan an-Nasa'i 3819
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
18: بَابُ : مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى
باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ سُفْيَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ , عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي , أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ , فَلَا يُعْطِينِي , وَلَا يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي , فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ , وَلَا أَصِلَهُ." فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا ؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎ ، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے ، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا ، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3819]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ ہی وہ رشتہ داری نبھاتا ہے اور نہ ہی بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2109)، (تحفة الأشراف: 11204)، مسند احمد (4/136، 137) (صحیح)