📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي - حدیث نمبر 3699

Sunan an-Nasa'i Hadith 3699 (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
کتاب #35 📁 کتاب: وصیت کے احکام و مسائل (كتاب الوصايا) ← 🏷️ باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3699 Sunan an-Nasa'i 3699
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
11: بَابُ : مَا لِلْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ
🏷️ باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152, وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ سورة البقرة آية 220 , إِلَى قَوْلِهِ:لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : ‏ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن ” یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام : ۱۵۲ ) اور إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما ” اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں “ ( النساء : ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے ۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی ، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير‏ سے ‏لأعنتكم ” اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا ، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے “ ( البقرہ : ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3699]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الوصایا 7 (2871)، (تحفة الأشراف: 5569)، مسند احمد (1/325) (حسن)
سنن النسائي • حدیث #3699
3697 3698 3699 3700 3701

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3698 أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْ...
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : میں ...
#3700 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ع...
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما` آیت کریمہ : «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتر...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ