سنن النسائي حدیث نمبر: 3699
Sunan an-Nasa'i 3699
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
11: بَابُ : مَا لِلْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ
باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152, وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ سورة البقرة آية 220 , إِلَى قَوْلِهِ: لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ” یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام : ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ” اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں “ ( النساء : ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے ۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی ، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ” اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا ، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے “ ( البقرہ : ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3699]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الوصایا 7 (2871)، (تحفة الأشراف: 5569)، مسند احمد (1/325) (حسن)