سنن النسائي حدیث نمبر: 3697
Sunan an-Nasa'i 3697
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
10: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْوِلاَيَةِ، عَلَى مَالِ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کے مال کی تولیت (ذمہ داری) لینے سے پرہیز کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ عَلَى مَالِ يَتِيمٍ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ابوذر ! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3697]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ یہ دونوں بڑے اہم اور ذمہ داری کے کام ہیں اگر آدمی سنبھال نہ پائے تو خود عذاب و عقاب کا مستحق بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 4 (1826)، سنن ابی داود/الوصایا 4 (2868)، (تحفة الأشراف: 11919)، مسند احمد (5/180) (صحیح)