سنن النسائي حدیث نمبر: 3696
Sunan an-Nasa'i 3696
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
9: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَقْيُ الْمَاءِ" , فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، انہوں نے کہا : کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” پانی پلانا “ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3696]
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3694 (صحیح)