سنن النسائي حدیث نمبر: 3694
Sunan an-Nasa'i 3694
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
9: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں مر گئیں ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، میں نے پوچھا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3694]
💡 وضاحت:
۱؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 41 (1680)، سنن ابن ماجہ/الأدب 8 (3684)، (تحفة الأشراف: 3834)، مسند احمد (5/284، 285 و6/7)، ویأتي فیما یلي: 3695، 3696 (حسن)