سنن النسائي حدیث نمبر: 3700
Sunan an-Nasa'i 3700
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
11: بَابُ : مَا لِلْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ
باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: كَانَ يَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمُ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220 فِي الدِّينِ , فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ : «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «وإن تخالطوهم فإخوانكم» ” اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں “ ( البقرہ : ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3700]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5574) (حسن)