سنن النسائي حدیث نمبر: 3457
Sunan an-Nasa'i 3457
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
19: بَابُ : طَلاَقِ الْعَبْدِ
باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ , قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي مَمْلُوكَيْنِ، فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے ، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی ، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے ۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا ، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3457]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2187) ابن ماجه (2082) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 6 (2187)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 32 (2082)، (تحفة الأشراف: 6561)، مسند احمد (1/229) (ضعیف) (اس کے راوی ”عمر بن معتب“ ضعیف ہیں)