سنن النسائي حدیث نمبر: 3455
Sunan an-Nasa'i 3455
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الْحَقِي بِأَهْلِكِ
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا يُحَدِّثُ , قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى صَاحِبَيَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَحِقَتْ بِهِمْ"، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ( پیچھے رہ جانے والے ) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا : میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں ، طلاق نہ دو ، بلکہ اس سے الگ رہو ، اس کے قریب نہ جاؤ ، ( یہ سن کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو ، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3455]
💡 وضاحت:
۱؎: اشارہ اس میں اس بات کی طرف ہے کہ معقل اور معمر دونوں امام زہری کے شاگرد ہیں۔ معقل نے اس روایت میں «لاتقربھا» کے بعد «فقلت لامرأتی الحقی باھلک ……» ذکر کیا ہے۔ لیکن معمر نے اپنی روایت میں جو اب آ رہی ہے اور ان کے استاد زہری ہی کے واسطہ سے آ رہی ہے «لاتقربھا» کے بعد «فقلت لامرأتی الحقی باھلک …» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3453 (صحیح)