سنن النسائي حدیث نمبر: 3456
Sunan an-Nasa'i 3456
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الْحَقِي بِأَهْلِكِ
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا"، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا : اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہو جاؤ ، میں نے اس سے کہا : میں اسے طلاق دے دوں ، اس نے کہا نہیں ، طلاق نہ دو ، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ ۔ اس حدیث میں انہوں نے «الحقی باھلک» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3456]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11154) (صحیح)