سنن النسائي حدیث نمبر: 3420
Sunan an-Nasa'i 3420
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
1: بَابُ : وَقْتِ الطَّلاَقِ لِلْعِدَّةِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
باب: عورتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی جانے والی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ، كَيْفَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا، حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَذَاكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَاجَعْتُهَا، وَحَسَبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا.
زبیدی کہتے ہیں : امام زہری سے پوچھا گیا : عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے ؟ ( اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت : «فطلقوهن لعدتهن» ( الطلاق : 1 ) کی طرف ) تو انہوں نے کہا : سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی ، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا : ” اسے رجوع کر لینا چاہیئے ، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ ( پھر ) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے ، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے “ ۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا ( کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3420]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق 1 (4908)، والأحکام 13 (7160)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2181)، سنن الترمذی/الطلاق 1 (1175)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 3 (2109)، مسند احمد 2/26، 58، 61، 81، 130 (صحیح)