سنن النسائي حدیث نمبر: 3419
Sunan an-Nasa'i 3419
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
1: بَابُ : وَقْتِ الطَّلاَقِ لِلْعِدَّةِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
باب: عورتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی جانے والی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا، حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے ۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3419]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 1 (5251)، 44 (5332)، صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2179)، (تحفة الأشراف: 8336)، موطا امام مالک/الطلاق 21 (53)، مسند احمد (6/6، 54، 63، 102، 124)، سنن الدارمی/الطلاق 1 (2308) (صحیح)