📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل (كتاب عشرة النساء) 🏷️ باب: باب: غیرت کا بیان۔
عربی:
اردو:
4: بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي , فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي , وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: حَشْيَا، قَالَ: " لَتُخْبِرِنِّي , أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ. قَالَ: " أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي، قَالَ: " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ". قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: " فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ , وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ , فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ , فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ". خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ.
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں ؟ ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ وہ بولیں : جس رات میری باری تھی ، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے ، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا ، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں ، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا ۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی ، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی ، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے ، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے ، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی ، اور تیزی سے چلے ، میں بھی تیزی سے چلی ، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی ، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا : ” کیا بات ہے عائشہ ! سانس کیوں پھولی ہے ؟ ( سلیمان بن داود نے کہا : میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا : «حشیا» ، یعنی ) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں ؟ “ آپ نے فرمایا : ” بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا “ ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا ، آپ نے فرمایا : ” تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا ؟ “ میں نے کہا : ہاں ، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا : ” کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا ؟ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے ، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، پھر فرمایا : جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا ، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں ، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا ، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو ، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں ۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں “ ۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج ، عن ابن ابی ملیکۃ ، عن محمد بن قیس» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3415]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2039 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #3415
3413 3414 3415 3416 3417

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3407 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ...
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھ...
#3408 أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَم...
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علی...
#3409 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُلَيْتٍ، عَنْ...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنان...
#3410 أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَي...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت ج...
#3411 أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ هُوَ لَقَبُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِ...
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی ، آپ اس سے مجامعت فرما...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ