سنن النسائي حدیث نمبر: 3410
Sunan an-Nasa'i 3410
کتاب #31: کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ , أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4 لِعَائِشَةَ , وَحَفْصَةَ , وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے ، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے ، آپ نے مغافیر کھایا ہے ۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا ، آپ نے فرمایا : ” نہیں ، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا “ ۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ” اے نبی ! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں “ ۔ ( التحریم : ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “ ۔ ( التحریم : ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول : میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت : «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ” اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی “ ( التحریم : ۳ ) نازل ہوئی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3410]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة التحریم 1 (4912) مختصراً، الطلاق 8 (5267)، والأیمان والنذور 25 (6691)، الحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن ابی داود/الأشربة 11 (3714)، (تحفة الأشراف: 16322)، مسند احمد (6/221)، ویأتي عند المؤلف في الطلاق 17 (برقم: 3450) وفي الأیمان والنذور 20 برقم: 3826 (صحیح)