سنن النسائي حدیث نمبر: 3412
Sunan an-Nasa'i 3412
کتاب #31: کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي شَعْرِهِ، فَقَالَ: " قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ". فَقُلْتُ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ: " بَلَى، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ , فَأَسْلَمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفتیش کر رہی تھی چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بالوں میں داخل کیا تو آپ نے فرمایا : ” تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے “ ۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ کا شیطان نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے لہٰذا میں اس سے محفوظ رہتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3412]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16184) (صحیح الإسناد)