سنن النسائي حدیث نمبر: 3407
Sunan an-Nasa'i 3407
کتاب #31: کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
4: بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ، فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ، فَانْكَسَرَتْ , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ، فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ , وَيَقُولُ: " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا". فَأَكَلُوا، فَأَمْسَكَ حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا , فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے ، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا ، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے : تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم لوگ کھانا کھاؤ ۔ لوگوں نے کھایا ، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ۱؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3407]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں پیالے آپ کی ذاتی ملکیت تھے، ورنہ کسی ضائع اور برباد چیز کا بدلہ اسی کے مثل قیمت ہوا کرتا ہے، یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں پیالے قیمت میں برابر رہے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 91 (3567)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 14 (2334) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم 34 (2481)، النکاح 107 (5225)، سنن الترمذی/الأحکام 23 (1359)، (تحفة الأشراف: 633)، مسند احمد (3/105، 263) (صحیح)