سنن النسائي حدیث نمبر: 3081
Sunan an-Nasa'i 3081
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
228: بَابُ : التَّكْبِيرِ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ
باب: ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ".
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس ( رضی الله عنہم ) سے روایت کرتے ہیں ، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3081]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11054)، مسند احمد (1/212) (صحیح)