سنن النسائي حدیث نمبر: 3059
Sunan an-Nasa'i 3059
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
217: بَابُ : الْتِقَاطِ الْحَصَى
باب: کنکریاں چننے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ: " هَاتِ الْقُطْ لِي، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ، قَالَ: بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا : اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ” میرے لیے کنکریاں چن دو “ ۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا : ” ایسی ہی ہونی چاہیئے ، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے ۔ “ [سنن نسائي/حدیث: 3059]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمزی اور امام احمد دونوں نے یہاں ”ابن عباس“ سے ”عبداللہ بن عباس“ سمجھا ہے، حالانکہ ”عبداللہ“ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ہی میں عورتوں بچوں کے ساتھ منی روانہ کر دیا تھا، اور مزدلفہ سے منی تک سواری پر آپ کے پیچھے ”فضل بن عباس“ ہی سوار تھے، یہ دونوں باتیں صحیح مسلم کتاب الحج باب ۴۵ اور ۴۹ میں اور سنن کبریٰ بیہقی (۵/۱۲۷) میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحج 63 (3029)، (تحفة الأشراف: 5427)، مسند احمد (1/215)، ویأتی عند المؤلف برقم 3061 (صحیح)