سنن النسائي حدیث نمبر: 3061
Sunan an-Nasa'i 3061
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
219: بَابُ : قَدْرِ حَصَى الرَّمْىِ
باب: کتنی بڑی کنکریاں مارے؟
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ: " هَاتِ الْقُطْ لِي، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنّ حَصَى الْخَذْفِ، فَوَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ، وَجَعَلَ يَقُولُ بِهِنَّ فِي يَدِهِ" , وَوَصَفَ يَحْيَى تَحْرِيكَهُنَّ فِي يَدِهِ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے : ” آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو “ ، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں ۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا ، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے ۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3061]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں ابن عباس سے مراد فضل ہیں (ملاحظہ ہو ۳۰۵۹، ۳۰۶۰)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3059 (صحیح)