سنن النسائي حدیث نمبر: 3024
Sunan an-Nasa'i 3024
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
204: بَابُ : الأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ فِي الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون سے چلنے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ، آپ پر سکینت طاری تھی ، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا ، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3024]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 66 (1944)، (886)، سنن ابن ماجہ/الحج 61 (3023)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 55 مسند احمد (3/301، 332، 367، 391)، سنن الدارمی/المناسک 56 (1933) (صحیح)