سنن النسائي حدیث نمبر: 3026
Sunan an-Nasa'i 3026
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
205: بَابُ : كَيْفَ السَّيْرُ مِنْ عَرَفَة
باب: عرفہ سے کیسے چلے؟
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ آپ کیسے چل رہے تھے ) تو انہوں نے کہا : آپ «عنق» ( تیز چال ) چل رہے تھے ، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کی رفتار چلتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3026]
💡 وضاحت:
۱؎: «نص» «عنق» سے بھی تیز چال کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، الجہاد 136 (2999)، المغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1246)، سنن ابی داود/الحج 64 (1923)، سنن ابن ماجہ/الحج 58 (3017)، (تحفة الأشراف: 104)، موطا امام مالک/الحج 57 (176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3054 (صحیح)