سنن النسائي حدیث نمبر: 3023
Sunan an-Nasa'i 3023
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
204: بَابُ : الأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ فِي الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون سے چلنے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ، وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى , قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ" , فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا : ” اطمینان و وقار کو لازم پکڑو “ یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے ، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے ، تو فرمایا : ” چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جا سکے “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3023]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، (تحفة الأشراف: 11057)، مسند احمد (1/210، 211، 313)، سنن الدارمی/المناسک 56 (1933)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3060 (صحیح)