سنن النسائي حدیث نمبر: 3021
Sunan an-Nasa'i 3021
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
203: بَابُ : فَرْضِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفہ میں ٹھہرنے کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَاسٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَيَكَادُ يُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے چلے ، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا ، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل ( اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی ) اور آپ فرما رہے تھے : ” لوگو ! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو ، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں “ ( بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3021]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 47 (1286)، (تحفة الأشراف: 95)، مسند احمد (5/201، 207) (صحیح)