سنن النسائي حدیث نمبر: 3015
Sunan an-Nasa'i 3015
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
202: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَسَائِرُ الْعَرَبِ تَقِفُ بِعَرَفَةَ فَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ مِنْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے ، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے ، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں ، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں ، پھر وہاں سے لوٹیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو “ نازل فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3015]
💡 وضاحت:
۱؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 91 (1665)، تفسیرالبقرة 35 (4520)، صحیح مسلم/الحج 21 (1219)، سنن ابی داود/الحج 58 (1910)، (تحفة الأشراف: 17195)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 53 (884) (صحیح)