سنن النسائي حدیث نمبر: 3013
Sunan an-Nasa'i 3013
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
201: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍ" رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اس کے وقت پر پڑھتے تھے ، سوائے مزدلفہ اور عرفات کے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3013]
💡 وضاحت:
۱؎: عرفات میں ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت پڑھتے یعنی جمع تقدیم کرے، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں عشاء کے وقت پڑھتے یعنی جمع تاخیر کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 609 (صحیح)