سنن النسائي حدیث نمبر: 3017
Sunan an-Nasa'i 3017
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
202: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ: رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام".
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں ” موقف “ ( ٹھہرنے کی خاص جگہ ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے ۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، آپ فرماتے ہیں : تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3017]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 63 (1919)، سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/الحج 55 (3011)، مسند احمد 4/137 (صحیح)