سنن النسائي حدیث نمبر: 2616
Sunan an-Nasa'i 2616
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
100: بَابُ : شِرَاءِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ خریدنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے ( ایک آدمی کو ) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کر دیا ، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں ، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا ، میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے ، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2616]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 59 (1490)، الھبة 30 (2623)، 37 (2636)، الوصایا 31 (2970)، الجھاد 119 (2970)، 137 (3003)، صحیح مسلم/الھبات 1 (1620)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 1 (2390)، 2 (1392)، ما/الزکاة 26 (49)، (تحفة الأشراف: 10385)، مسند احمد (1/ 25، 37، 40، 54) (صحیح)