سنن النسائي حدیث نمبر: 2619
Sunan an-Nasa'i 2619
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
100: بَابُ : شِرَاءِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ خریدنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، وَيَزِيدُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ، فَتُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا".
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو ( درخت پر لگے ) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جا سکے ، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2619]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر اس حدیث کا تعلق اس کے باب ”صدقہ خریدنے کا بیان“ سے نظر نہیں آتا، ممکن ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ ”جب درخت پر لگے پھل کا تخمینہ لگا کر مالک کے گھر میں موجود کھجور سے اس کی زکاۃ لے لی گئی تو گویا یہ بیع ہو گئی“، اور تب عمر رضی الله عنہ کے واقعہ میں ممانعت تنزیہ پہ محمول کی جائے گی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد مرسل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1603،1604) ترمذي (644) ابن ماجه (1819) السند مرسل وله طريق آخر عند أبى داود (1603) وسنده ضعيف، لإنقطاعه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة13 (1603)، سنن الترمذی/الزکاة17 (644)، سنن ابن ماجہ/18 (1819)، (تحفة الأشراف: 9748) (حسن الإسناد) (حدیث کی سند میں ارسال ہے، اور یہ سعید بن مسیب کی مرسل ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے صحیح مراسیل سعید بن مسیب ہی کی ہیں)