سنن النسائي حدیث نمبر: 2615
Sunan an-Nasa'i 2615
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
99: بَابُ : إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ
باب: صدقہ و زکاۃ بدل کر ہدیہ ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتُعْتِقَهَا، وَإِنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ"، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" , وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا ، لیکن ان کے مالکان نے ولاء ( ترکہ ) خود لینے کی شرط لگائی ۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے خرید لو ، اور آزاد کر دو ، ولاء ( ترکہ ) اسی کا ہے جو آزاد کرے “ ، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں ۔ ( اسی درمیان ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا ، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ اس کے لیے صدقہ ہے ، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے “ ، ان کے شوہر آزاد تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2615]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله حر المحفوظ عبد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 61 (1493)، العتق 10 (2536)، الھبة 7 (2578)، النکاح 18 (5097)، الطلاق 14 (5279)، 17 (5284)، والأطعمة 31 (5430)، الکفارات 8 (6717)، الفرائض 19 (6751)، 20 (6754)، 22 (6757)، 23 (6759)، (تحفة الأشراف: 15930)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة52 (1075)، العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2916)، الطلاق 19 (2233)، سنن الترمذی/البیوع 33 (1256)، الولاء 1 (2125)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2074)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد 6/42، 46، 115، 123، 170، 172، 175، 178، 180، 191، 207، 209، ویأتي عند المؤلف 3480 (صحیح) (یہ روایت ’’وکان زوجھا عبدا‘‘ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، اور ’’کان حرا‘‘ کا لفظ صرف ”الحکم عن الأسود عن عائشة“ کے طریق میں ہے، جو بقول امام بخاری راوی ’’حکم‘‘ کا ارسال ہے)