سنن النسائي حدیث نمبر: 2589
Sunan an-Nasa'i 2589
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
85: بَابُ : الاِسْتِعْفَافِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
باب: دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے بچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ: " مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ نے انہیں دیا ، ان لوگوں نے پھر سوال کیا ، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” میرے پاس جو ہو گا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا ، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا ، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا ، اور صبر سے بہتر اور بڑی چیز کسی کو نہیں دی گئی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2589]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 50 (1469)، الرقاق 20 (6470)، صحیح مسلم/الزکاة 42 (1053)، سنن ابی داود/الزکاة 28 (1644)، سنن الترمذی/البر 77 (2025)، (تحفة الأشراف: 4152)، موطا امام مالک/الصدقة 2 (7)، مسند احمد (3/93)، سنن الدارمی/الزکاة18 (1686) (صحیح)