سنن النسائي حدیث نمبر: 2587
Sunan an-Nasa'i 2587
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
83: بَابُ : الْمَسْأَلَةِ
باب: لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بِسْطَامَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَاب: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الْمَسْأَلَةِ مَا مَشَى أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ يَسْأَلُهُ شَيْئًا".
عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا ۔ جب ( وہ لوٹ کر چلا اور ) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا ( برائی ) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2587]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5060)، مسند احمد (5/65) (حسن) (تراجع الالبانی 486، صحیح الترغیب والترہیب 796)