سنن النسائي حدیث نمبر: 2590
Sunan an-Nasa'i 2590
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
85: بَابُ : الاِسْتِعْفَافِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
باب: دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے بچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ، فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ( مال ) سے نوازا ہو ، وہ اس سے مانگے ، تو وہ اسے دے یا نہ دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2590]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة (1470)، (تحفة الأشراف: 13830)، موطا امام مالک/الصدقة 2 (10)، مسند احمد (2/243) (صحیح)