سنن النسائي حدیث نمبر: 2538
Sunan an-Nasa'i 2538
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
56: بَابُ : صَدَقَةِ الْعَبْدِ
باب: غلام کے صدقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لِمَ ضَرَبْتَهُ؟" فَقَالَ: يُطْعِمُ طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، وَقَالَ: مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ أَمْرِي , قَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا".
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا ، اتنے میں ایک مسکین آیا ، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا ، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا : تم نے اسے کیوں مارا ہے ؟ اس نے کہا : یہ میرا کھانا ( دوسروں کو ) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے ۔ اور دوسری بار راوی نے کہا : بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اس کا ثواب تم دونوں ہی کو ملے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2538]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 26 (1025)، سنن ابن ماجہ/التجارات 66 (2297)، (تحفة الأشراف: 10899) (صحیح)