سنن النسائي حدیث نمبر: 2537
Sunan an-Nasa'i 2537
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
55: بَابُ : إِذَا تَصَدَّقَ وَهُوَ مُحْتَاجٌ إِلَيْهِ هَلْ يُرَدُّ عَلَيْهِ
باب: جب کوئی صدقہ دے اور وہ خود ضرورت مند ہو تو کیا وہ چیز اسے لوٹائی جا سکتی ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: " تَصَدَّقُوا" فَتَصَدَّقُوا، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " تَصَدَّقُوا" فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ فَتَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقْتُمْ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ وَانْتَهَرَهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” تم دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” تم دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر وہ تیسرے جمعہ کو ( بھی ) آیا ، آپ نے فرمایا : ” دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ” صدقہ دو “ ، تو لوگوں نے صدقہ دیا ، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے ، پھر آپ نے پھر فرمایا : ” لوگو صدقہ دو “ ، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا ؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا ، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے ، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا ، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو ، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے ، پھر لوگوں سے کہا : ” صدقہ دو “ ، تو اس نے ان کپڑوں میں سے ( جو ہم نے اسے دیے تھے ) ایک ( ہمارے آگے ) ڈال دیا ، ( ارے بیوقوف ) تم اپنا کپڑا لے لو ، آپ نے اسے ڈانٹا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2537]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ڈانٹ ازراہ شفقت تھی، مطلب یہ تھا کہ میں تو تمہارے لیے انتظام میں لگا ہوا ہوں، تمہیں صدقہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 39 (1675)، سنن الترمذی/ الصلاة 250 (511)، (تحفة الأشراف: 4274) (حسن الإسناد)