سنن النسائي حدیث نمبر: 2530
Sunan an-Nasa'i 2530
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
49: بَابُ : جَهْدِ الْمُقِلِّ
باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ، فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ، فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلًا لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ، مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ".
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے ، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا ، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا ، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا ۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے ، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2530]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 10 (1415)، الإجارة 13 (2273)، تفسیر التوبة 11 (4669)، صحیح مسلم/الزکاة 21 (1018)، سنن ابن ماجہ/الزھد 12 (4155)، (تحفة الأشراف: 9991)، مسند احمد (5/273) (صحیح)