سنن النسائي حدیث نمبر: 2529
Sunan an-Nasa'i 2529
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
49: بَابُ : جَهْدِ الْمُقِلِّ
باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ؟ قَالَ: " رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَرَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِ مَالِهِ مِائَةَ أَلْفٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں ، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا ۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے ، اس نے اپنے مال ( خزانے ) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے ، اور انہیں صدقہ میں دیدے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2529]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن عجلان عنعن،وانظر الحديث السابق (2528) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12328) (حسن)