سنن النسائي حدیث نمبر: 2438
Sunan an-Nasa'i 2438
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
1: بَابُ : وُجُوبِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْيِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " بِالْإِسْلَامِ"، قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: " أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا ۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے ، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسلام کے ساتھ “ ، میں نے پوچھا : اسلام کی نشانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا ، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا ، اور نماز قائم کرو ، اور زکاۃ دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2438]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11388)، مسند احمد 5/4، 5، ویأتي عند المؤلف، بأرقام: 2567، 2569، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2536) (حسن الإسناد)