سنن النسائي حدیث نمبر: 2440
Sunan an-Nasa'i 2440
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
1: بَابُ : وُجُوبِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْ أَبِي سَعِيدٍ، يَقُولَانِ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَكَبَّ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي، لَا نَدْرِي عَلَى مَاذَا حَلَفَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَى، فَكَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيُخْرِجُ الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، إِلَّا فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ , فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ بِسَلَامٍ".
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا ۔ آپ نے تین بار فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ ، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا ، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی ، پھر آپ نے فرمایا : ” جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے ، روزے رمضان رکھے ، اور زکاۃ ادا کرے ، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے ، اور اس سے کہا جائے گا : سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2440]
💡 وضاحت:
۱؎: ساتوں کبائر یہ ہیں: (۱) شراب پینا (۲) جادو کرنا (۳) ناحق خون بہانا (۴) سود کھانا (۵) یتیم کا مال کھانا (۶) جہاد سے بھاگنا (۷) پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4079، 13509)، مسند احمد 3/79 (ضعیف) (اس کے راوی صہیب عتواری لین الحدیث ہیں)